جسے مل گیا غمِ مصطَفٰے، اُسے زندَگی کا مَزہ ملا
کبھی سَیلِ اَشک رَواں ہوا، کبھی ’’آہ‘‘ دِل میں دَبی رہی (وسائلِ بخشش)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تَعَالٰی علٰی مُحَمَّد
راہِِ خُدا میں مُشکِلات پر صَبْر
میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو! دینِ اِسلام کی اِشاعت و تَرویج کے لئے کس قدَر مَصائب وآلام برداشت کئے گئے، اسلام کے عظیم مبلغین نے تَن من دَھن سب راہِ خدا میں قربان کر دیا !آج بھی اگر مَدَنی قافلے میں سفر پر جاتے، اِنفرادی کوشِش فرماتے ، سنّتیں سیکھتے سکھاتے یا سُنَّتوں پر عَمَل کرتے کراتے ہوئے اگر مشکلات کا سامنا ہو تو ہمیں عاشقِ اکبر سیِّدُنا صدِّیقِ اَکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے حالات و واقِعات کو پیشِ نظر رکھ کر اپنے لئے تسلِّی کا سامان مُہَیّا کر کے مَدَنی کام مزید تیز کر دینا چاہئے اور دِین کے لئے تَن مَن دَھن نثار کر دینے کا جذبہ اپنے اندر اُجاگر کرنا چاہئے جیسا کہ عاشقِ اکبررضی اللہ تعالٰی عنہ آخِری دم تک اِخلاص اور اِستِقامت کے ساتھ دینِ اِسلام کی خدمت سَراَنجام دیتے رہے، راہِ خدا میں جان کی بازی لگا دی مگر پائے اِستِقلال میں ذرّہ بَرابَر بھی لغزِش نہ آئی، دینِ اِسلام قبول کرنے کی پاداش میں جوصَحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوان مظلومانہ زندَگی بَسَر کر رہے تھے آپ رضی اللہ تعالٰی عنہنے اُن کے لئے رَحمت وشفقت کے دریابہا دیئے۔اور بارگاہِ ربُّ العُلٰی عَزَّوَجَلَّ سے آپ رضی اللہ تعالٰی عنہنے صاحِبِ تقویٰ کا لقب پایا اور
خدمتِ دِینِ خُدااور اُلفتِ مصطَفٰے میں مال خرچ کرنے پر سلطانِ دوجہاں ، رحمتِ