والِدۂ صاحِبہ کی طرف اِشارہ کرتے ہوئے توجُّہ دِلائی۔ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ اِن سے خوف نہ کیجئے،تب اُنہوں نے عرض کی:نبیِّ رحمتصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عنایت سے بخیروعافیت ہیں اوردارِاَرقم یعنی حضرتِ سیِّدُنا اَرقم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے گھر تشریف فرما ہیں۔آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا: خد اعَزَّوَجَلَّ کی قسم ! میں اُس وقت تک کوئی چیز کھاؤں گا نہ پیوں گا، جب تک شَہَنْشاہِ نُبُوّت، سراپا خیرو بَرَکَت صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی زیارَت کی سعادت حاصِل نہ کر لوں ۔چُنانچِہ والدۂ ماجِدہ رات کے آخِری حصے میں آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کو لے کر حضورتاجدارِ رسالت صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمتِ بابَرَکت میں دارِ اَرقم حاضِر ہوئیں۔ عاشقِ اَکبر حضرت ِسیِّدُنا صِدِّیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہحضورِ انورصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمسے لپٹ کر رونے لگے ، آقائے غمگُسارصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم اوروہاں موجود دیگر مسلمانوں پربھی گِریہ (یعنی رونا) طاری ہو گیا کہ سیِّدُناصِدِّیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہکی حالتِ زار دیکھی نہ جاتی تھی۔ پھرآپ رضی اللہ تعالٰی عنہنے مصطَفٰے جانِ رَحمت، شمعِ بزمِ ہِدایت صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمسے عرض کی :یہ میری والِدۂ ماجِدہ ہیں ، آپصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم اِن کے لئے ہِدایت کی دُعا کیجئے اور اِنہیں دعوتِ اِسلام دیجئے۔ شاہِ خیرُ الانام عَلَیہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَالسَّلام نے اُن کو اِسلام کی دعوت دی، اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّوَجَلَّ! وہ اُسی وقت مسلمان ہو گئیں۔ (البدایۃ والنہایۃج۲ص۳۶۹۔۳۷۰ دارالفکربیروت)