فرماتھے،آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے تبَسُّم فرمایا۔ حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: یا رسولَ اللہ! عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پرمیرے ماں باپ قربان ! آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے کس لئے تَبَسُّم فرمایا : ارشاد فرمایا :میرے دو ۲ اُمَّتی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بار گاہ میں دو زانُوگر پڑیں گے ، ایک عرض کر ے گا :یااللہ عَزَّوَجَلَّ ! اس سے میر اانصاف دلا کہ اس نے مجھ پر ظلم کیا تھا ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ مُدَّعی(یعنی دعویٰ کرنے والے) سے فرمائے گا : اب یہ بے چا رہ(یعنی جس پر دعویٰ کیا گیا ہے وہ) کیا کرے اِس کے پاس تو کوئی نیکی باقی نہیں ۔ مظلوم(مُدَّعی) عرض کریگا : ''میرے گناہ اس کے ذِمّے ڈالد ے۔'' اتنا اِرشاد فرما کر سرورِ کائنات،شاہِ موجُودات صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم رو پڑے ، فرمایا : وہ دن بَہُت عظیم دن ہوگا کیونکہ اُس وقت (یعنی بر وزِقِیامت ) ہر ایک اس بات کا ضَرورت مند ہوگا کہ اس کا بو جھ ہلکا ہو ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ مظلوم (یعنی مُدَّعی)سے فرما ئیگا ـ : دیکھ تیرے سامنے کیا ہے ؟ وہ عرض کریگا: اے پروردگار! عَزَّوَجَلَّ میں اپنے