بارگاہ ِ الٰہی عزوجل میں صرف توبہ کرنا کافی نہیں،بندوں کے جو جو حُقُوق پامال کئے ہوں وہ بھی اداکرنے ہوں گے، مَثَلاً مالی حق ہے تو اُس کا مال لوٹانا ہوگا، دل دُکھایا ہے تو معاف کروانا ہو گا۔آج تک جس جس کا مذاق اُڑایا، بُرے اَلقاب سے پکارا، طعنہ زنی اور طنز بازی کی،دل آزار نقلیں اتاریں، دل دُکھانے والے انداز میں آنکھیں دِکھائیں، گُھورا، ڈرایا، گالی دی، غيبت کی اور اس کو پتا چل گیا۔ جھاڑا، مارا، ذلیل کیا، اَلغَرَض کسی طرح بھی بے اجازتِ شرعی ایذاء کا باعِث بنے ان سب سے فرداً فرداً معاف کروالیجئے،اگرکسی فرد کے بارے میں یہ سوچ کر باز رہے کہ مُعافی مانگنے سے اس کے سامنے میری ''پوزيشن ڈاؤن'' ہوجائے گی تو خدارا غور فرما لیجئے!قِیامت کے روز اگر یہی فرد آپ کی نیکیاں حاصِل کرکے اپنے گناہ آپ کے سر ڈالدیگا اُس وقت کیا ہو گا! خدا کی قسم! صحیح معنوں میں آپ کی ''پوزیشن'' کی دھجیاں تو اُس وقت اڑيں گی اور آہ! کوئی دوست برادر یا عزیز ہمدردی کرنے والا بھی نہ ملے گا۔ جلدی کیجئے! جلدی کیجئے! اپنے والِدین کے