علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے: قِیامت کے روزلوگوں کا مذاق اڑانے والے کے سامنے جنَّت کاایک دروازہ کھولا جائے گا اور کہا جائے گا کہ آؤ !آؤ! تو وہ بَہُت ہی بے چینی اورغم میں ڈوبا ہوا اُس دورازے کے سامنے آئے گا مگر جیسے ہی دروازے کے پاس پہنچے گا وہ دروازہ بند ہوجائے گا۔پھر جنَّت کا ایک دوسرا دروازہ کھلے گا اور اس کو پکارا جائیگا کہ آؤ !چُنانچِہ یہ بے چَینی اور رنج وغم میں ڈوبا ہوا اُس دروازے کے پاس جائے گا تووہ دروازہ بھی بندہوجائے گا ۔اِسی طرح اس کےساتھ مُعامَلہ ہوتا رہے گایہاں تک کہ جب دروازہ کھلے گا اورپُکار پڑے گی تو وہ نہیں جائے گا۔