Brailvi Books

ظلم کا انجام
49 - 62
عیب پر ہنسنا گناہ ہے اسی طرح کسی مسلمان کو بُرے القاب سے پکارنابھی گناہ ہے ،کسی کو کتّا،گدھا،سُوَر وغیرہ نہیں کہہ سکتے، اسی طرح کسی میں عیب موجود ہو تب بھی اُسے اُس عیب کےساتھ نہیں پکار سکتے مَثَلًا اے اندھے ! ابے کانے ! او لمبے ،ارے ٹھگنے !وغيرہ ،ہاں ضَرورتاًپہچان کروانے کیلئے نابینا وغیرہ کہہ سکتے ہیں۔ لوگوں پر ہنسنے،بُرے اَلقاب سے پکارنے اور مذاق اُڑانے والوں کو قراٰنِ پاک نے ''فاسِق'' کافتوٰی ارشاد فرمایا ہے اور جو توبہ نہ کرے اسے ظالم قراردیا ہے ۔ لوگوں کا مذاق اُڑانے والو! کان کھول کرسن لو !
مذاق اُڑانے کا عذاب
    جب کسی مسلمان کا مذاق اُڑانے کو جی چاہے تو خدا را اِس روایت پر غور فرما لیا کیجئے جس میں سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار، رسولوں کے سالار، نبیوں کے سردار ،شَہَنْشاہِ اَبرار،سرکارِ والا تبار،ہم غریبوں کے غمگسار،ہم بے کسوں کے مددگار ، صاحِبِ پسینۂ خوشبودار،شفیعِ روزِشمار جنابِ احمدِ مختار صلَّی اللہ تعالیٰ
Flag Counter