ایک بُزُرگ کا واقِعہ ہے کہ ان کی رقم کسی نے نکال لی تھی اور وہ رو رہے تھے لوگوں نے ہمدردی کا اظہار کیاتو فرمانے لگے: میں اپنی رقم کے غم میں نہیں بلکہ چور کے غم میں رو رہا ہوں کہ کل قِیامت میں بے چارہ بطور ِمجرِم پيش کیاجائے گا اُس وقت اُس کے پاس کوئی عُذر نہیں ہوگا۔ آہ! اس وقت اسکی کتنی رُسوائی ہوگی۔
چوری کا عذاب
چور کی بات نکلی تو چوری کا عذاب بھی عرض کرتا چلوں فقیہ ابواللَّیث سمرقندی علیہ رحمۃ اﷲ القوی ''قُرّۃُ الْعُیُون'' میں نَقل کرتے ہیں :جس نے کسی کا تھوڑا سا مال بھی چُرایاوہ قِیامت کے روز اُس مال کو اپنی گردن میں آگ کے طوق (ہار ) کی شکل میں لٹکاکر آئے گا۔اور جس نے تھوڑا سا بھی مالِ حرام کھایا اُس کے پیٹ میں آگ سُلگائی جائے گی اور وہ اِس قَدَر خوفناک چیخیں مارے گا کہ جتنے لوگ اپنی