میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یہ تو اُس شخص کا حال ہے جو مظلوم کی مدد پر قدرت ہونے کے باوُجُود اُس کی مدد نہیں کرتا تو خود ظالم کا کیا حال ہو گا!معلوم ہوا کہ مظلوم کی حتَّی الوَسع مدد کرنی چاہئے اور مظلوم کی مدد کرنے میں بَہُت اجروثواب ہے۔ہمارے بُزُرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ المبین کو مسلمانوں کی تکالیف کا کس قَدَر احساس تھا اِس کا اندازہ ''کیمیائے سعادت'' میں بیان کردہ اِس حکایت سے کیجئے چُنانچِہ ایک مرتبہ لوگوں نے دیکھا کہ حضرتِ سیِّدُنا فُضَیل بن عیاض رحمۃ تعالیٰ علیہ رور رہے ہیں ،جب رونے کی وجہ دریافت کی گئی تو فرمایا: میں اُن بے چارے مسلمانوں کے غم میں رو رہا ہوں جنہوں نے مجھ پرمظالِم کئے ہیں کہ کل بروزِ قِیامت جب ان سے سُوال ہوگا کہ تم نے ایساکیوں کیا؟ان کا کوئی عُذر نہ