| ظلم کا انجام |
عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے:'' مجھے میری عزّت وجلال کی قسم میں جلدی یا دیر میں ظالم سے بدلہ ضَرور لوں گا۔اور اُس سے بھی بدلہ لوں گا جو باوُجُودِ قدرت مظلوم کی امداد نہیں کرتا۔''
(اَلتَّرْغِیب وَالتَّرْہِیب ج۳ ص۱۴۵ حدیث۳۴۲۱ )
معلوم ہو ا جو مظلوم کی مدد کرنے کی قدرت رکھتا ہے پھر بھی نہیں کرتا وہ گنہگار ہے۔ البتّہ جو مدد پر قادر نہ ہو اُس پر گناہ نہیں جیسا کہ حضرت شارحِ بخاری مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ رحمۃ القوی فرماتے ہیں:''یاد رہے! مسلمان کی مدد ،مدد کرنے والے کے حال کے اعتبار سے کبھی فرض ہوتی ہے کبھی واجِب کبھی مُستَحَب۔''
(نزھۃ القاری ج۳ ص۶۶۵، فرید بک اسٹال)
قَبْرسے شُعلے اُٹھ رہے تھے!
خلیفۂ اعلیٰ حضرت فقیہِ اعظم حضرتِ علامہ ابو یوسف محمد شریف کوٹلوی علیہِ رَ حمۃُ اللہِ القوی اپنی کتاب ''اَخلاقُ الصّالحین ''میں نَقل کرتے ہیں:ابو میسرہ رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:ایک قَبْرسے شُعلے اُٹھ رہے تھے اور میِّت کو عذاب ہورہا تھا ،مُردے نے پوچھا :مجھے کیوں مارتے ہو ؟فِرِشتوں نے کہا کہ