Brailvi Books

ظلم کا انجام
41 - 62
منافق ٹھہروں گا کی وضاحت
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے!ہمار ے اَسلاف رَحِمَہُم اللہ تعالٰی کتنے کھرے اورسچّے ہوا کرتے تھے، ان کا ذِہن یہ تھا کہ جب تک سامنے والے سے حقیقی معنوں میں ہمدردی کا جذبہ نہ ہو اُس کا حال نہ پوچھا جائے اورحال پوچھنے کی صورت میں اگر وہ پریشانی بتائے تو حتَّی المقدور اُس کی اِمداد کی جائے۔یاد رہے!امام ابنِ سِیرِین علیہ رَحمَۃُ اللہِ المُبین نے مدد نہ کرنے کی صورت میں اپنے لئے یہ جو فرمایا کہ ''مُنافِق ٹھہروں گا'' اس سے یہاں مُنافِقِ عملی مُراد ہے اور نِفاقِ عملی کفر نہیں۔
مظلوم کی امداد کرنا ضَروری ہے
     جہاں ظلم کرنا بندوں کی حق تلفی ہے وہاں باوُجُود قدرت مظلوم کی مدد نہ کرنا بھی جُرم ہے ۔چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا عبداﷲ ابن عبّاس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کہتے ہيں:رسولُ اﷲ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان عبرت نشان ہے:  اللہ
Flag Counter