کاش ! دل وزَبان یکساں ہوجائیں۔ہمارے اَسلاف دل اور زبان کی یکسانیت کا بَہُت زيادہ خیال رکھتے تھے چُنانچِہ امَامُ المُعَبِّرِین حضرتِ سیِّدُنا امام محمد ابنِ سِیرِین علیہِ رَحمَۃُ اللہِ المُبین نے ایک شخص سے پوچھا: کیاحال ہے؟ وہ بولا : ''اُس کا کیا حال ہوگا جس پر پانچ سو دِرھم قرض ہو، بال بچّے دار ہو مگر پلّے کچھ نہ ہو۔''آپ رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ یہ سن کر گھر تشریف لائے اور ایک ہزار دِرھم لاکر اُس کو پیش کرتے ہوئے فرمایا : پانچ سودِرہم سے اپنا قرض ادا کردیجئے اورمزید پانچ سو اپنے گھر خرچ کیلئے قَبول فرمایئے۔اس کے بعد آپ رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ نے اپنے دل میں عہد کیا کہ آئندہ کسی کا حال دریافت نہیں کروں گا۔حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام محمدبن محمد غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی فرماتے ہیں: امام ابنِ سِیرِین علیہ رَحمَۃُ اللہِ المُبین نے یہ عَہد اس لئے کیاکہ اگر میں نے کسی کاحال پوچھا اوراُس نے اپنی پریشانی بتائی پھر اگرمیں نے اس کی مدد نہیں کی تومیں پوچھنے کے مُعامَلے میں ''مُنافِق'' ٹھہروں گا!