Brailvi Books

ظلم کا انجام
39 - 62
ہوں'' اگر وہ اِس قول میں سچّا تھا تو وہ آپ کے حق میں گواہی دینے کے لئے نااہل ہوا کیوں کہ آقا کے حق میں غلام کی گواہی نامقبول ہے اوراگر بطور خوشامد اس نے جھوٹ بولا تھا تب بھی اس کی گواہی قبول نہیں کی جاسکتی کہ جو شخص آپ کے دربار میں بے باکی کے ساتھ جھوٹ بول سکتا ہے وہ میری عدالت میں جھوٹ سے کب باز رہے گا!
کیا حال ہے؟
    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے؟حضرتِ سیِّدُنا امام ابویوسف رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کس قَدَر ذِہین تھے اور عدل ہوتو ایسا کہ کسی بندے کے حق کے مُعامَلے میں نہایت ہی بے باکی کےساتھ خلیفہ ٔوقت کے حق میں اس کے خاص وزیرکی گواہی بھی مُستَرَد کردی۔یہاں واقِعی ایک نکتہ قابلِ غور ہے کہ بسا اوقات خوشامدانہ طور پر یا یوں ہی بے سوچے سمجھے اپنے آپ کو ایک دوسرے کا خادِم یا غلام یاسگ وغیرہ بول دیا جاتا ہے مگر دل اسكےبلکل اُلٹ ہوتا ہے،
Flag Counter