میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حضرتِ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے شاہِ غَسّان جیسے بادشاہ کی ذرَّہ برابر بھی رعایت نہ فرمائی اور اس بدنصیب کے اسلام سے پھر کر دوبارہ کفر کے گڑھے میں کود جانے سے اسلام کو بھی کوئی نقصان نہ پہنچا ۔بلکہ اگرحضرت سیِّدُنا فاروقِ اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ رعایت فرمادیتے تو شاید اسلام کو ضَرر(یعنی نقصان) پہنچتا اور لوگوں کا اس طرح ذِہن بنتاکہ اسلام کمزور کو طاقتور سے مَعاذاللہ عزوجل حق نہیں دلواسکتا۔ یہ عادِلانہ نِظام ہی کی بَرَکت تھی کہ ایک روز حضرتِ سیِّدُنا فاروقِ اعظم بِغیر کسی محافِظ کے بے خوف و خَطَر گرمی کے موسِم میں ایک دَرَخت کے نیچے پتّھر پر اپنامبارَک سر رکھ کر سَو رہے تھے کہ ُروم کا