امیرُالْمُؤمِنِین حضرتِ سیِّدُنا عُمر فاروقِ اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ حقوقُ العِباد کے مُعامَلے میں کسی کی رعایت نہ فرماتے تھے۔چُنانچِہ شاہِ غَسّان نیا نیا مسلمان ہوا تھا اور اس سے حضرت سیِّدُنا فاروق اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کوبَہُت زیادہ خوشی ہوئی تھی کیوں کہ اس کے سبب اب اُس کی رعایا کے ایمان لانے کی اُمّید پیدا ہوگئی تھی۔ دورانِ طواف شاہِ غَسّان کے کپڑے پر کسی غریب اَعرابی کا پاؤں آ گیا ، غصّے میں آکر اس نے ایسا زوردارطمانچہ مارا کہ اَعرابی کا دانت شہید ہو گیا ۔ اُس نے سیِّدُنا عمرِفاروقِ اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ میں فریاد کی۔شاہِ غَسّان نے طمانچہ مارنے کا اِعتِراف کیا تو آپ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے مُدَّعی یعنی اس مظلوم اَعرابی سے فرمایاکہ آپ شاہِ غَسّان سے قِصاص یعنی بدلہ لے سکتے ہیں۔یہ سن کر شاہِ غَسّان نے بُرا مناتے ہوئے کہا کہ ایک معمولی شخص مجھ جیسے بادشاہ کے برابر کیسے ہوگیا جواسکو مجھ سے بدلہ لینے کا حق حاصل ہوگیا !آپ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ