یاد رکھئے !اپنے چھوٹے چھوٹے مَدَنی مُنّے اور مَدَنی مُنّیوں کے بھی حُقُوق کا خیال رکھنا ہوتاہے۔اس مُعامَلے میں بے اِحتیاطی باعِثِ ہلاکت اور احتیاط سببِ دُخُولِ جنَّت ہے۔ چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا محمدبن اسمٰعیل بُخاری علیہ رحمۃُ الباری اپنے مجموعۂ احادیث، اَلمَوسُوم ، ''صحیح بخاری'' میں نَقل کرتے ہیں:اُمّ الْمُؤمِنِین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائِشہ صِدّیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے فرمایا : ایک عورت جس کے ساتھ دو بچیاں تھیں، اس نے آکر مجھ سے سُوال کیا (یعنی مجھ سے کچھ مانگا)،میرے پاس اس وقت صرف ایک کَھجور تھی وہ میں نے اسکو دے دی اس نے کَھجور کے دوٹکڑے کرکے دونوں کو ایک ایک ٹکڑا دے دیا۔جب سَیِّدَتُنا عائِشہ صِدّیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے اللہ کے مَحبوب ،دانائے غُیُوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت میں یہ واقِعہ عرض کیا تو فرمایا: ''جس کو لڑکیاں عطا ہوئیں اور اس نے ان کے ساتھ اچّھاسُلوک کیا تو یہ اس کے لئے جہنَّم سے آڑ بن جائیں گی۔''