اللہ!اللہ! ہمارے بُزُرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ المبین کتنی عظیم مَدَنی سوچ کے مالِک ہوتے تھے!ہم تو ایسا سوچ بھی نہیں سکتے اولیائے کرام ہر وَقت خوفِ خدا عزوجل سے لزراں وترساں رہا کرتے ہیں،ہردم موت ان کے پیشِ نظر رہتی، قبر وحشر کے مُعامَلات سے کبھی غافِل نہیں ہوتے۔آہ! قبر کا مُعامَلہ بے انتہا تشویش ناک ہے! ہائے ہمارا کیا بنے گا! ہم تو اپنی قَبْر کو یکسر بھولے ہوئے ہیں ''اِحیاء ُالعلوم ''میں ہے:حضرتِ سیِّدُنا سفیان ثوری رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ''جو شخص قَبْر کو اکثر یاد کرتا ہے وہ مرنے کے بعد اپنی قَبْر کو جنَّت کے باغوں میں سے ایک باغ پائے گا اورجوقَبْر کو بُھلادے گا وہ اپنی قَبْر کو جہنَّم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا پائے گا۔''