| ظلم کا انجام |
غائب پاکر یہ سمجھ کر کہ چوری ہوگئیں بےچارہ دل مَسُوس کر رہ گیا اور ننگے پاؤں ہی چلا گیا۔آپ نے اگر چِہ واپس آکر چَپلیں جہاں سے لی تھیں وہیں رکھ دیں مگر اُس کا مالِک تو انہیں ضائِع کرچکا ۔اس کا وبال کس پر ؟یقینا آپ پر اور آپ ہی ظالِم ٹھہرے ۔ آہ!بروزِ قیامت ظالم کی حسرت!حضرتِ سیِّدُنا شيخ عبدُالوَہّاب شَعرانی قُدِّسَ سرُّہُ النُّورانی فرماتے ہیں: ''بسا اوقات ایک ہی ظلم کے بدلے ظالم کی تمام نیکیاں لے کر بھی مظلوم خوش نہ ہوگا۔''
(تَنبِیْہُ الْمُغتَرِّیْن ص۵۰)
جبھی تو ہمارے بزُرگانِ دین رحمہم اللہُ المبین بظاہر معمولی نظر آنے والی باتوں میں بھی احتیاط فرماتے تھے۔ حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام محمدبن محمد غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی فرماتے ہیں:
خوشبو سونگھنے میں احتیاط
حضرتِ امیرُالْمُؤمِنِین سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے سامنے مسلمانوں کے لیے مُشک کاوزن کیاجارہاتھا، تو انہوں نے فوراً اپنی ناک بند