Brailvi Books

ظلم کا انجام
30 - 62
 مگرافسوس! اب ہم اس سلسلے میں بالکل بے خوف ہوتے جارہے ہیں ! یادرکھئے ! ابھی تو دوسروں کی چیزیں جان بوجھ کر رکھ لینا بَہُت آسان معلوم ہوتاہے مگر قِیامت میں صاحِبِ حق کو اِس کا بدلہ چکانا اور اس کو راضی کرنا بَہُت ہی مشکل ہوجائے گا لہٰذادوسروں کے ایک ایک دانے اور ایک ایک تنکے کے بارے میں احتیاط کرنی چائیے،بِغیر اجازت کسی کی کوئی چیزمَثَلاً چادر، تولیہ،برتن، چارپائی ، کرسی وغیرہ وغیرہ ہر گز استعمال نہیں کرنی چاہئے ہاں اگر ان چیزوں کے مالک کی طرف سے اِذنِ عام ہو تو استعمال کرنے میں حَرَج نہیں۔مَثَلاًکسی کے گھرمہمان بن کر گئے توعُمُوماً اِس طرح کی چیزوں کے استعمال کی صاحِبِ خانہ کی طرف سے چھوٹ ہوتی ہے۔ اکثر دیکھا جاتاہے کہ مسجِد میں بعض لوگ بِغیر اجازتِ مالک اُس کی چپّلیں پہن کر اِستِنجاء خانے چلے جاتے ہیں۔ بظاہِر یہ عمل بَہُت ہی معمولی لگ رہا ہے مگر ذرا سوچئے تو سہی!آپ کسی کی چپّلیں پہن کر استِنجاء خانے تشریف لے گئے اوراس کا مالِک باہَر جانے کیلئے اپنی چَپّلوں کی طرف آيا،