اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے ہمیں مسلمانوں کی ہمدردی کرنے کے تعلُّق سے کتنے پیارے مَدَنی پھول عنایت فرمائے ہیں۔ ہمارے بُزُرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ المبین دوسروں کے حُقُوق کے مُعاملے میں انتِہائی دَرَجے حَسّاس ہوتے تھے اور ادائگي حق کے معاملے میں حیرت انگیز حد تک مُحتاط بھی۔ چُنانچِہحضرتِ سیِّدُنا عبد اﷲ بن مبارَک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مُلکِ شام میں چند روز کیلئے مُقیم ہوئے، وہاں احادیثِ مبارَکہ لکھتے رہے۔ایک بار ان کا قلم ٹوٹ گیا لہٰذا عارِیتاً (یعنی وقتی طور پر ) کسی اور سے قلم حاصِل کیا، واپَسی پربُھولے سے وہ قلم وطن ساتھ لیتے آئے ۔ جب یاد آیا توصِرف قلم واپَس دینے کیلئے آپ رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہنے اپنے وطن سے ملکِ شام کا سفر کیا۔