| ظلم کا انجام |
بخاری علیہ ر حمۃ الباری اپنے مجموعہ احادیث اَلموسُوم ''صحِیح بُخارِی'' میں نَقل کرتے ہیں:حضرت سیِّدُنا عُبادہ بن صامِت رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:مکّی مَدَنی آقا صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم باہَر تشریف لائے تاکہ ہمیں شبِ قَدر بتائیں کہ کس رات میں ہے، دو مسلمان آپس میں جھگڑ رہے تھے، سرکار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: میں اِس لئے آیا تھا کہ تمہیں شبِ قَدر بتاؤں مگرفُلاں فُلاں شخص جھگڑ رہے تھے اِس لئے اس کا تَعَیُّن اُٹھا لیا گیا۔
(صَحِیحُ البُخارِیّ ج۱ ص۶۶۲ حدیث ۲۰۲۳ )
ہم شریف کے ساتھ شریف اور ......
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس حدیثِ مبارَکہ میں ہمارے لئے زبردست درسِ عبرت ہے کہ ہمارے پیارے آقا صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم شبِ قدر کی نشاندہی فرمانے ہی والے تھے کہ دو مسلمانوں کا باہم لڑنا مانِع(یعنی رُکاوٹ) ہوگیا اور ہمیشہ ہمیشہ کیلئے شبِ قدر کو مخفی(یعنی پوشیدہ) کردیا گیا۔ اِس سے اندازہ