کیجئے کہ آپس کا جھگڑا کس قَدَر نقصان دِہ ہے۔ مگر آہ!جھگڑا لومزاج کے لوگوں کو کون سمجھائے؟ آج کل توبعض مسلمان بڑے فخر سے یہ کہتے سنائی دے رہے ہیں کہ ''میاں اِس دنیا میں شریف رَہ کر گزارہ ہی نہیں، ہم تو شریفوں کے ساتھ شریف اور بدمَعاشوں کے ساتھ بدمَعاش ہیں!'' اورصِرف کہنے پر بھی اِکتِفا تھوڑے ہی ہے!بسا اوقات تو معمولی سی بات پر پہلے زَبان درازی ، پھر دست اندازی،پھر چاقوبازی بلکہ گولیاں تک چل جاتی ہیں۔صدکروڑ افسوس ! آج کے بعض مسلمان باوُجُود مسلمان ہونے کے کبھی پٹھان بن کر، کبھی پنجابی کہلا کر ،کبھی سرائیکی بن کر،کبھی مُہاجِر ہوکر، کبھی سِندھی اور بلوچ قومیَّت کا نعرہ لگا کر ایک دوسرے کا گلا کاٹ رہے ہیں،دکانوں اور گاڑیوں کو آگ لگا رہے ہیں، مسلمانو! آپ تو ایک دوسرے کے محافِظ تھے،آپ کو کیا ہوگیا ہے؟ ہمارے پیارے آقا رحمتوں والے مصطَفٰے صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان تویہ ہے کہ ''باہَم مَحَبَّت و رَحم و نرمی میں مومِنوں کی مثال ایک جسم کی طرح ہے کہ اگر ایک عُضْوْ کو تکلیف پہنچے تو سارا