Brailvi Books

ظلم کا انجام
25 - 62
 مزید فرماتے ہیں کہ '' کامِل مُہاجِر وہ مسلمان ہے جو ترکِ وطن کے ساتھ ترکِ گناہ بھی کرے، یا گناہ چھوڑنا بھی لُغَۃً ہجرت ہے جو ہمیشہ جاری رہے گی۔''
                     (مراٰۃ المناجیح ج۱ ص۲۹)
مسلمان کو گھورنا،ڈرانا
    سرکارِمدینہ منوّرہ،سردارِمکّہ مکرّمہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : مسلمان کیلئے جائز نہیں کہ دو سرے مسلمان کی طرف آنکھ سے اِس طرح اشارہ کرے جس سے تکلیف پہنچے۔
(اِتحافُ السّادَۃ للزّبیدی ج۷ ص۱۷۷)
ایک مقام پر ارشاد فرمایا: کسی مسلمان کو جائز نہیں کہ وہ کسی مسلمان کو خوفزدہ کرے۔
(سُنَنُ اَ بِی داو،د ج۴ ص۳۹۱حدیث۵۰۰۴داراحیاء التراث العربی بیروت)
    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!معلوم ہوا کہ مسلمان دوسرے مسلمان کا مُحافِظ اور غمخوار ہوتا ہے،آپس میں لڑنا جھگڑنا یہ مسلمان کا شَیوہ نہیں بلکہ اس سے بَہُت بڑے بڑے نقصانات ہوجاتے ہیں جیسا کہ حضرتِ سیِّدُنا شیخ محمد بن اسمٰعیل
Flag Counter