Brailvi Books

ظلم کا انجام
21 - 62
وخطیب ہیں  جو کچھ بھی ہیں بِغیر شرمائے توبہ بھی کیجئے اور اُس بندے سے مُعافی مانگ کر اس کو راضی بھی کر لیجئے ورنہ جہنَّم کا ہولناک عذاب برداشت نہیں ہوسکے گا ۔ سنو ! سنو ! حضرتِ سیِّدُنا یزید بن شَجَرہ رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: جس طرح سمندر کے کَنارے ہوتے ہیں اِسی طرح جہنَّم کے بھی کَنارے ہیں جن میں بُختی اونٹوں جیسے سانپ اور خَچّروں جیسے بچھّو رہتے ہیں ۔اہلِ جہنَّم جب عذاب میں کمی کیلئے فریاد کریں گے تو حکم ہوگاکَناروں سے باہَر نکلو وہ جُوں ہی نکلیں گے تو وہ سانپ انہیں ہونٹوں اورچِہروں سے پکڑ لیں گے اور ان کی کھال تک اُتارلیں گے وہ لوگ وہاں سے بچنے کیلئے آگ کی طرف بھاگیں گے پھر ان پر کھجلی مُسَلَّط کردی جائے گی وہ اس قَدَرکُھجائیں گے کہ ان کاگوشت پوست سب جَھڑ جائے گا اور صرف ہڈّیاں رَہ جائیں گی، پکار پڑے گی: ''اے فُلاں! کیا تجھے تکلیف ہورہی ہے؟ وہ کہے گا: ہاں۔ تو کہا جائے گا یہ اُس اِیذاء کا بدلہ ہے جو تو مومِنوں کو دیا کرتا تھا۔''
(اَلتَّرْغِیب وَالتَّرْہِیب ج۴ ص۲۸۰ حدیث ۵۶۴۹ دار الفکر بیروت)
Flag Counter