Brailvi Books

ظلم کا انجام
19 - 62
اللہ و رسول عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو ایذا دینے والا
    حقوقُ العباد کامُعامَلہ بڑا نازُک ہے مگر آہ! آج کل بے باکی کا دور دورہ ہے، عوام توکُجا خواص کہلانے والے بھی عُمُوماً اِس کی طرف سے غافل رہتے ہیں۔غصّے کا مرض عام ہے اس کی وجہ سے اکثر'' خواص'' بھی لوگوں کی دل آزاری کر بیٹھتے ہیں او ر اس کی طرف ان کی بالکل توجُّہ نہیں ہوتی کہ کسی مسلمان کی بِلاوجہ شَرعی دل آزاری گناہ وحرام اور جہنَّم میں لے جانے والا کام ہے۔میرے آقا اعلیٰ حضرت ر حمۃاللہ تعالیٰ علیہ فتاوٰی رضویہ شریف جلد 24 صَفْحَہ 342 میں طَبَرانِی شریف کے حوالے سے نقل کرتے ہیں:سلطانِ دو جہان صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے:
'مَنْ اٰذَی مُسْلِمًا فَقَدْ اٰذَانِیْ وَمَنْ اٰذَانِیْ فَقَدْ اٰذَی اللہ.
(یعنی) جس نے (بِلاوجہِ شَرعی) کسی مسلمان کو ایذاء دی اُس نے مجھے ایذاء دی اور جس نے مجھے ایذاء دی اُس نے   اللہ عَزَّوَجَلَّ کو ایذاء دی۔''
 ( اَلْمُعْجَمُ الْاَ وْسَطج۲ ص۳۸۷ حدیث ۳۶۰۷)
 اﷲ و رسول عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو
Flag Counter