وعدے کرکے بعض لوگ قرضہ حاصل کرلیتے ہیں مگر افسوس صد کروڑ افسوس!لے لینے کے بعد ادا کرنے کا نام نہیں لیتے۔ غیرتمندی کا تقاضا تو یہ ہے کہ جس سے قرض لیا ہے اپنے اُس مُحسن کے گھر جلد تر جاکر شکریہ کےساتھ قرض ادا کر آتے، مگر آج کل حالت یہ ہے کہ اگر قرض ادا کرنا بھی ہے تو قرضخواہ کو خوب دھکّے کِھلا کر، رُلا رُلا کر اُس بے چارے کی رقم کوتوڑ پھوڑ کریعنی تھوڑی تھوڑی کر کے قرض لوٹایا جاتا ہے۔ یاد رکھئے! بِلا وجہ قرضخواہ کو دھکّے کھلانا بھی ظُلم ہے۔ عام طور پر بیوپاریوں کی عادت ہوتی ہے کہ رقم گَلّے میں موجود ہونے کے باوُجود شام کو لے جانا، کل آنا وغیرہ کہہ کر بِلا اجازتِ شَرعی ٹَرخاتے،ٹہلاتے اور دھکّے کھلاتے ہیں، یہ نہیں سوچتے کہ ہم کتنابڑاوبال اپنے سر لے رہے ہیں! اگرشام کو قرض چکانا ہی ہے تو ابھی صبح کے وقت چُکا دینے میں حَرَج ہی کیا ہے!