Brailvi Books

ظلم کا انجام
16 - 62
قرضدار قرض ادا کرسکتا ہو تو قرض خواہ کی مرضی کے بِغیر اگر ایک گھڑی بھر بھی تاخیر کریگا تو گنہگار ہوگا اور ظالم قرار پائے گا۔ خواہ روزے کی حالت میں ہو یا سورہا ہو اس کے ذِمّے گناہ لکھا جاتا رہے گا۔ (گویا ہر حال میں گُناہ کا میڑ چلتا رہیگا) اورہر صورت میں اس پر   اللہ عَزَّوَجَلَّ کی لعنت پڑتی رہے گی۔ یہ گناہ تو ایسا ہے کہ نیند کی حالت میں بھی اس کے ساتھ رہتا ہے۔ اگر اپنا سامان بیچ کر قرض ادا کرسکتا ہے تب بھی کرنا پڑیگا ، اگر ایسا نہیں کریگا تو گنہگار ہے۔ اگر قرض کے بدلے ایسی چیز دے جو قرض خواہ کو ناپسند ہو تب بھی دینے والا گنہگار ہوگا اور جب تک اسے راضی نہیں کریگا اس ظُلم کے جُرم سے نَجات نہیں پائے گا کیوں کہ اس کا یہ فعل کبیرہ گناہوں میں سے ہے مگر لوگ اسے معمولی خیال کرتے ہیں۔''
                 (کیمیائے سعادت ج۱ ص ۳۳۶)
غیرتمندی کا تقاضا
    میٹھے ميٹھے اسلامی بھائیو! جب مطلب ہوتا ہے تو خوشامد اور جھوٹے
Flag Counter