جی ہاں! جو کسی کا قرضہ دبالے وہ ظالم ہے اور سخت نقصان وخُسران میں ہے۔ حضرت سیِّدُنا سُلَیمان طَبَرانی قُدِّسَ سرُّہُ النُّورانی اپنے مجموعہئ حدیث ،''طَبَرانی ''میں نَقْل کرتے ہیں : سرکارِمدینہئ منوَّرہ، سردارِ مکّہئ مکرَّمہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا جس کا مفہوم ہےـ: ''ظالم کی نیکیاں مظلوم کو، مظلوم کے گناہ ظالم کو دلوائے جائیں گے ۔''
(اَلْمُعْجَمُ الْکَبِیْر ج۴ص۱۴۸حدیث ۳۹۶۹داراحیاء التراث العربی بیروت)
ادائے قرض میں بِلاوجہ تاخیر گناہ ہے
قرض کی بات چلی ہے تو یہ بھی بتاتا چلوں کہ حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام محمدبن محمد غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالیکیمیائے سعادت میں نقل کرتے ہیں: ''جو شخص قرض لیتا ہے اور یہ نیّت کرتا ہے کہ میں اچّھی طرح ادا کردوں گا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی حفاظت کیلئے چند فرِشتے مقرَّر فرما دیتا ہے اور وہ دُعاء کرتے ہیں کہ اس کا قرض ادا ہوجائے۔''
(انظر:اِتِحافُ السّادَۃ للزّبیدیج ۶ ص۴۰۹ دارالکتب العلمیۃ بیروت)
اور اگر