میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے ! ایک پَرایا گیہوں بِغیر اجازت توڑ دینا بھی نقصانِ قیامت کا سبب ہو سکتا ہے۔ اب صِرف گیہوں کا دانہ توڑنے یا کھاجانے ہی کی کہاں بات ہے۔ آج کل توکئی لوگ بِغیر دعوت کے دوسروں کے یہاں کھانا ہی کھا ڈالتے ہیں!حالانکہ بِغیر بلائے کسی کی دعوت میں گُھس جانا شرعاً منع ہے ۔ ابوداو،د شریف کی حدیثِ پاک میں یہ بھی ہے: ''جو بِغیر بلائے گیا وہ چور ہو کر گُھسا اور غار تگری کر کے نکلا۔''(سُنَنُ اَ بِی داو،د ج۳ ص۳۷۹حدیث ۳۷۴۱) نیز آج کل قرض کے نام پر لوگوں کے ہزاروں بلکہ لاکھوں روپے ہڑپ کرلئے جاتے ہیں۔ ابھی تو یہ سب آسان لگ رہا ہوگا لیکن قِیامت میں بَہُت مہنگا پڑجائے گا۔ اے لوگوں کا قرضہ دبالینے والو! کان کھول کر سنو! میرے آقا اعلیٰ حضر ت حمۃاللہ تعالیٰ علیہ نقل کرتے ہیں: ''جو دنیا میں کسی کے تقریباً تین پیسے دَین( یعنی قرض)دبالیگا بروزِقیامت اس کے بدلے سات سو باجماعت