اور یہ لاعلاج مرض ہے کیونکہ عبادت کی اصل، اس کا مغز اور راز اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کے جلال میں تفکّر ہے اور اس کا تقاضا یہ ہے کہ دل فارغ ہو جب کہ مال اور ساز و سامان والا صبح و شام کسانوں سے الجھاؤ اور ان سے حساب و کتاب میں مشغول رہتا ہے اسی طرح شرکاء کے ساتھ پانی اور زمین کی حدود کا جھگڑا ہوتا ہے خراج کے سلسلے میں حکومتی کارندوں سے اور تعمیر میں کوتاہی کے سلسلے میں مزدوروں سے اختلاف نیز کاشتکاروں سے خیانت اور چوری کے حوالے سے جھگڑا رہتا ہے۔
تاجر کو اپنے شریک کی طرف سے خیانت کی فکر رہتی ہے نیز یہ کہ وہ نفع زیادہ لیتا ہے اور کام میں کوتاہی کرتا ہے علاوہ ازیں مال کو ضائع کرتا ہے اسی طرح جانوروں کا مالک بھی اس قسم کے مسائل سے دوچار ہوتا ہے بلکہ مال کی کوئی بھی صورت ہو یہی پریشانی رہتی ہے لیکن جو خزانہ زمین میں دفن کیا گیا ہو اس میں مشغولیت کم ہوتی ہے اگرچہ یہاں بھی دل کا تردّد باقی ہوتا ہے کہ کہاں خرچ کرے اس کی حفاظت کیسے کرے اس پر لوگ مطلع نہ ہوجائیں۔
غرضیکہ دنیوی افکار کی وادیوں کی کوئی انتہا نہیں ہے اور جس آدمی کے پاس ایک دن کا کھانا ہو وہ ان تمام باتوں سے محفوظ ہے۔
تویہ دنیوی آفات ہیں اس کے علاوہ بھی دنیا داروں کو پریشانی، غم، خوف، حاسدوں کے حسد کو دور کرنے کی مشقت مال کی حفاظت اور کمائی کے سلسلے میں سخت خطرات ہیں لہٰذا مال کا تریاق (علاج) یہ ہے کہ اس سے گزر اوقات کے لئے لینے کے