کرتا ہے تاکہ اس کا دنیوی معاملہ منظّم ہو اور عیاشی کے لئے آسانی ہو کیونکہ جس کا مال زیادہ ہوتا ہے اسے لوگوں کی حاجت بھی زیادہ ہوتی ہے اور جو لوگوں کی جانب محتاج ہو اس کا لوگوں کے ساتھ منافقت کرنا ناگزیر ہے اور وہ لوگوں کی رضا مندی حاصل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتا ہے۔
اگر آدمی پہلی آفت سے بچ بھی جائے تو بھی اس سے نہیں بچ سکتا اور جب مخلوق کی طرف حاجت ہو تو دوستی اور دشمنی بھی پیدا ہوتی ہے اور اس سے حسد، کینہ، ریا، تکبر، جھوٹ، چغلی، غیبت اور ایسے تمام گناہ پیدا ہوتے ہیں جو دل اور زبان کے ساتھ خاص ہیں اور پھر یہ تمام اعضاء کی طرف متعدی ہوتے ہیں اور یہ سب کچھ مال کی نحوست اور اس کی حفاظت اور اصلاح کی حاجت کے باعث ہوتا ہے۔
تیسری قسم:یہ وہ آفت ہے جس سے کوئی بھی نہیں بچتا وہ یہ کہ مال کی اصلاح اسے اللہ
تعالیٰ کے ذکر سے غافل کردیتی ہے اور جو کام بندے کو اللہ تعالیٰ سے غافل کردے وہ نقصان کا باعث ہے۔
اسی لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا:
مال میں تین آفات ہیں ایک یہ کہ حرام طریقے سے حاصل کرے، عرض کی گئی: اگر حلال طریقے سے حاصل کرے تو؟ فرمایا: اسے ناحق استعمال کرتا ہے پوچھا گیا: اگر صحیح مقام پر خرچ کرے تو؟ فرمایا: اس کی اصلاح اسے اللہ تعالیٰ سے غافل کردیتی ہے۔