پہلی قسم: مال گناہ کی طرف لے جاتا ہے کیونکہ خواہشات کا تقاضا ہمیشہ جاری رہتا
ہے اور مال سے عجز بعض اوقات آدمی اور گناہ کے درمیان حائل ہوتا ہے اور قادر نہ ہونا بھی بچنے کا ایک ذریعہ ہے اور جب تک انسان کسی گناہ سے مایوس رہتا ہے اس وقت تک اس کا شوق حرکت میں نہیں آتا اور جوں ہی اس پر قدرت پاتا ہے تو شوق ابھرتا ہے اور مال بھی ایک قسم کی طاقت ہے جو گناہوں کے شوق کو حرکت دیتی اورآدمی کو فسق و فجور پر ابھارتی ہے پھر اگر وہ اپنی خواہش پر عمل پیرا ہوتا ہے تو ہلاک ہوتا ہے اور اگر صبر کرتا ہے تو شدت کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ قدرت اور طاقت کے باوجود صبر کرنا مشکل ہوتا ہے اور فراخی کی حالت میں جو آزمائش ہوتی ہے وہ تنگی کی حالت کی آزمائش سے زیادہ بڑی ہوتی ہے۔
دوسری قسم:مال مباح کاموں میں عیش و عشرت تک پہنچاتا ہے اور یہ سب سے پہلا
درجہ ہے تو مالدار آدمی سے ایسا کب ہوسکتا ہے کہ وہ جَو کی روٹی کھائے، سخت کھردرے کپڑے پہنے اور لذیذ کھانے چھوڑدے جیسا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنی سلطنت میں ایسا کیا تھا۔ ایسا آدمی تو دنیا کی نعمتوں سے نفع اٹھاتا ہے اور اس کا نفس اس بات کا عادی ہوجاتا ہے یوں اس کو عیاشی سے اس قدر الفت و محبت ہوجا تی ہے کہ وہ اس پر صبر نہیں کرسکتا اور اس طرح ایک سے دوسری عیاشی تک جاتا ہے اور جب اس سے اُنس پکا ہوجاتا ہے اور بعض اوقات وہ حلال کمائی سے اس تک نہیں پہنچ سکتا تو شبہات میں پڑتا ہے اور وہ ریاکاری، منافقت، جھوٹ اور تمام بری عادات میں غور و خوض