کے ذریعہ نہیں ہوسکتے لہٰذا ان کو چھوڑ کر دوسرے کاموں میں مشغول ہونا نقصان کا باعث ہے۔
تیسری قسم:کسی خاص آدمی پر مال خرچ کرنے کے بجائے ایسے مصارف میں خرچ
کرے جس سے عام لوگوں کو فائدہ حاصل ہو۔ جیسے مساجد، پل، سرائے اور بیماروں کے لئے ہسپتال وغیرہ بنانا، راستے میں پانی کی سبیلیں لگانا اور اس کے علاوہ اچھے مقاصد کے لئے زمین وقف کرنا یہ دائمی خیرات ہے جس کا فائدہ مرنے کے بعد بھی حاصل ہوتا ہے۔ اور نیک لوگ مدتوں اس فوت شدہ کے لئے دعا کرتے ہیں اور ان دعاؤں کی برکات اسے حاصل ہوتی ہیں اس سے بڑھ کر کیا بہتری ہوسکتی ہے۔
تو یہ دین کے اعتبار سے مالی فائدے ہیں اس کے علاوہ دنیوی فوائد بھی ہیں مثلاً وہ مانگنے کی ذلت اور فقر کی حقارت سے محفوظ رہتا ہے اور مخلوق کے درمیان اسے عزت اور بزرگی حاصل ہوتی ہے دوست اور احباب زیادہ ہوتے ہیں اور دلوں میں اس کی عزت اور وقار بڑھتا ہے یہ سب مال کے دنیوی فوائد ہیں۔۱؎