جس مال کے ذریعہ آدمی اپنی عزت کی حفاظت کرتا ہے وہ صدقہ لکھا جاتا ہے۔
یہ خرچ دینی کیوں نہ ہوگا جب کہ اس کے ذریعہ غیبت کرنے والے کو غیبت سے بچانا ہے نیز خود کو بھی بدلے اور انتقام کی بنا پر حدود شرع سے تجاوز کرنے سے بچانا ہے۔
جہاں تک خدمت لینے کی خاطر پیسہ خرچ کرنے کا معاملہ ہے تو آدمی اپنے اسباب کی تیاری میں جن کاموں کا محتاج ہوتا ہے وہ بہت زیادہ ہیں اگر وہ خود ہی تمام کام کرنے لگے تو دقّت ہوجائے اورذکر و فکر کے ذریعہ راہ سلوک پر چلنا مشکل ہوجائے جو کہ سالکین کے بلند مقامات ہیں۔
اور جس آدمی کے پاس مال نہیں ہوتا وہ اپنے کام خود اپنے ہاتھ سے کرنے کا محتاج ہوتا ہے وہ غلّہ خریدتا اور پیستا ہے، گھر کی صفائی خود کرتا ہے حتی کہ جس خط کی اسے ضرورت ہو وہ بھی خود لکھنا پڑتا ہے تو جو کام دوسروں کے ذریعہ ہوسکتا ہے اور اس سے تمہاری غرض پوری ہوجاتی ہے جب تم اس میں مشغول ہوتے ہو تو تمہیں نقصان اٹھانا پڑتا ہے کیوں کہ علم حاصل کرنا، عمل کرنا اور ذکر وفکر میں مشغول رہنا چاہے اور یہ کام دوسروں