Brailvi Books

ضیائے صدقات
93 - 408
مصروف ہوتا ہے اور دین کے لئے فارغ نہیں ہوتا اور جس چیز کے بغیر آدمی عبادت تک نہ پہنچ سکے اس کی تکمیل بھی عبادت ہوتی ہے۔

    لہٰذا دین پر مدد حاصل کرنے کے لئے دنیا سے حسبِ ضرورت لینا دینی فوائد میں سے ہے لیکن ضرورت سے زیادہ لینا اور عیاشی اس میں داخل نہیں ہے کیونکہ وہ محض دنیوی حصہ ہے۔

دوسری قسم: ''وہ مال جسے لوگوں پر صرف کرے'' اس کی چار قسمیں ہیں (۱) صدقہ کرنا

(۲)مروت کے طور پر دینا (۳)عزت کی حفاظت کے لئے دینا اور (۴)خدمت لینے کی اجرت دینا۔ صدقہ کا ثواب پوشیدہ نہیں ہے یہ اللہ تعالیٰ کے غضب کی آگ کو ٹھنڈا کرتا ہے اس سے پہلے ہم صدقہ کی فضیلت ذکر کرچکے ہیں مروّت سے ہماری (یعنی امام غزالی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی) مراد یہ ہے کہ مالدار اور معزز لوگوں کی مہمان نوازی پر مال خرچ کیا جائے یا تحفہ دیا جائے یا مدد کی جائے اس کو صدقہ نہیں کہتے بلکہ صدقہ وہ ہوتا ہے جو ضرورت مند لوگوں کو دیا جائے لیکن یہ دینی فوائد میں سے ہے کیوں کہ اس طرح انسان کو دوست اور بھائی مل جاتے ہیں نیز اس طرح سخاوت کی صفت حاصل ہوتی ہے اور وہ سخی لوگوں کی جماعت میں شامل ہوجاتا ہے۔کیونکہ وہی شخص سخاوت کی صفت سے موصوف ہوتا ہے جو لوگوں کے ساتھ احسان اور مروّت کا سلوک کرتا ہے اس عمل کا بھی بہت بڑا ثواب ہے۔

    عزّت بچانے سے ہماری (یعنی امام غزالی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی) مراد یہ ہے کہ آدمی اس لئے مال خرچ کرے تاکہ شعراء اور بے وقوف لوگ اس کے