امام غزالی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: مال کے فوائد دو طرح ہوتے ہیں (۱)دنیوی فوائد (۲)دینی فوائد، دنیوی فوائد ذکر کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ ان کی معرفت مشہورہے اور مخلوق کی تمام اقسام میں مشترک ہے اگر یہ بات نہ ہوتی تو وہ اس کی طلب میں ہلاک نہ ہوتے لیکن اس کے دینی فائدے تین قسموں میں منحصر ہیں۔
پہلی قسم: ''اپنے آپ پر خرچ کرے''یوں کہ عبادت پر خرچ کرے یاعبادت پر مدد
حاصل کرنے کے لئے خرچ کرے، عبادت پر خرچ کرنے کی مثال حج اور جہاد پر مال خرچ کرنا ہے کیونکہ یہ دونوں کام مال کے بغیر نہیں ہوتے اور یہ دونوں کام تمام عبادتوں کی اصل ہیں اور فقیر آدمی ان دونوں کی فضیلت سے محروم ہوتا ہے اور عبادت پر قوت حاصل کرنے کے لئے خرچ کرنے کی مثال کھانے، لباس، رہائش، نکاح اور دیگر ضروریات زندگی پر مال خرچ کرنا ہے کیونکہ جب تک حاجات حاصل نہ ہوں تو دل ان کی تدبیر میں