Brailvi Books

ضیائے صدقات
92 - 408
مال کی آفات اور فوائد
    امام غزالی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: مال سانپ کی طرح ہے جس میں زہر بھی ہے اور تریاق بھی، اس کے فوائد اس کے تریاق ہیں اور اس کی آفات زہر ہیں تو جو شخص اس کے فوائد اور آفات کی پہچان حاصل کرلے تو اس کے لئے اس کے شر سے بچنا اور اس کی بھلائی حاصل کرنا ممکن ہے۔۱؎
مال کے فوائد
    امام غزالی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: مال کے فوائد دو طرح ہوتے ہیں (۱)دنیوی فوائد (۲)دینی فوائد، دنیوی فوائد ذکر کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ ان کی معرفت مشہورہے اور مخلوق کی تمام اقسام میں مشترک ہے اگر یہ بات نہ ہوتی تو وہ اس کی طلب میں ہلاک نہ ہوتے لیکن اس کے دینی فائدے تین قسموں میں منحصر ہیں۔

پہلی قسم:    ''اپنے آپ پر خرچ کرے''یوں کہ عبادت پر خرچ کرے یاعبادت پر مدد 

حاصل کرنے کے لئے خرچ کرے، عبادت پر خرچ کرنے کی مثال حج اور جہاد پر مال خرچ کرنا ہے کیونکہ یہ دونوں کام مال کے بغیر نہیں ہوتے اور یہ دونوں کام تمام عبادتوں کی اصل ہیں اور فقیر آدمی ان دونوں کی فضیلت سے محروم ہوتا ہے اور عبادت پر قوت حاصل کرنے کے لئے خرچ کرنے کی مثال کھانے، لباس، رہائش، نکاح اور دیگر ضروریات زندگی پر مال خرچ کرنا ہے کیونکہ جب تک حاجات حاصل نہ ہوں تو دل ان کی تدبیر میں
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎ (إحیاء علوم الدین،کتاب ذم البخل وذم حب المال، بیان تفصیل آفات المال وفوائدہ،ج۳،ص۳۱۳)
Flag Counter