| ضیائے صدقات |
متعلق اللہ تعالیٰ کا حق ادا کردیا ہے۔ پھر ایک اور دنیادار کو لایا جائے گا جس نے دنیا میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری نہ کی ہوگی اس کا مال اس کے کاندھوں کے درمیان ہوگا جب وہ پل صراط پر ڈگمگائے گا تو اس کا مال کہے گا تجھے خرابی ہو تو نے مجھ سے متعلق اللہ تعالیٰ کا حق کیوں ادا نہیں کیا، وہ شخص اسی حالت پر رہے گا حتی کہ وہ اپنی ہلاکت پر چیخ وپکار کریگا۔۱؎
عقلاً ونقلاً مال کا جمع کرنا بے سُود ہے کیونکہ انسان کا اصل مال تو وہی ہے جو اس نے کھا پی لیا یا راہِ خداعزوجل میں خرچ کردیا باقی جو چھوڑ گیا وہ تو ورثاء کا ہوگا۔ چنانچہ:عَنْ أَبِيْ ھُرَیرۃَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ، قَالَ: إِذَا مَاتَ الْمیتُ، قَالَتِ الْمَلَاءِکَۃُ: مَا قَدَّمَ، وَقَالَ النَّاسُ: مَا خَلَّفَ.۲؎
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، جب کوئی بندہ مرجاتا ہے تو فِرشتے کہتے ہیں: اس نے آگے کیا بھیجا ہے جبکہ لوگ کہتے ہیں: پیچھے کیا چھوڑ گیا۔
حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی ہتھیلی میں ایک درہم رکھا پھر فرمایا: جب تک تو مجھ سے جدا نہیں ہوگا مجھے فائدہ نہیں پہنچائے گا۔۳؎مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
۱؎ (إحیاء علوم الدین، کتاب ذم البخل وذم حب المال، بیان ذم المال وکراھۃحبہ،ج۳،ص۳۱۲)
۲؎ (المصنف لابن أبي شیبۃ، کتاب الزھد، کلام أبي ھریرۃ، الحدیث:۳۴۶۹۵،ج۷،ص۱۴۲)
(شعب الإیمان، باب في الزھد وقصر الأمل، الحدیث:۱۰۴۷۵،ج۷،ص۳۲۸)
(الفردوس بمأثور الخطاب، الحدیث:۱۱۱۱،ج۱،ص۲۸۳)
۳؎ (إحیاء علوم الدین، کتاب ذم البخل وذم حب المال، بیان ذم المال وکراھۃحبہ،ج۳،ص۳۱۲)