| ضیائے صدقات |
مثل پہلے اور پچھلے لوگوں نے نہیں سنا اور وہ بندے کے لئے اس کے مال میں موت کے وقت ہوتی ہیں پوچھا گیا وہ کیا مصیبتیں ہیں؟ فرمایا: ایک یہ کہ اس سے تمام مال چھین لیا جاتا ہے اور دوسری یہ کہ تمام مال کا حساب دینا پڑتا ہے۔۱؎
راہِ خداعزوجل میں خرچ کئے بغیر (یعنی زکوٰۃ، فطرہ و حقوق العباد کی ادائیگی کے بغیر) جمع کیا گیا مال بروزِ قیامت انگارے ثابت ہوگا جس سے اس شخص کو داغا جائے گا۔ چنانچہ:عَنْ أَبِيْ ذَرٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یقُوْلُ:''مَنْ أَوْکٰی عَلٰی ذَھَبٍ أَوْ فِضَّۃٍ وَلَمْ ینفِقْہُ فِيْ سَبِیل اللہِ کَانَ جَمْراًیوْمَ الْقِیامَۃِ یکوٰی بِہِ''.۲؎
حضرت ابو ذررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں:میں نے آقائے مظلوم، سرور معصوم، حسن اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، محبوب ر ب اکبر صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو سونا یاچاندی راہِ خدا عزوجلمیں خرچ کئے بغیر جمع کریگا تو وہ بروزِ قِیامت انگارا ہوگا جس سے اُسے داغا جائے گا۔
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خط لکھا کہ اے میرے بھائی! اتنا مال جمع کرنے سے بچنا کہ اس کا شکر ادا نہ کرسکو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے سُنا ہے کہ (بروزِ قیامت) ایک دنیادار کو لایا جائے گا جس نے دنیا میں اللہ تعالیٰ کا حکم مانا ہوگا اور اس کا مال اس کے سامنے ہوگا جب وہ پل صراط پر لڑکھڑانے لگے گا تو اس کا مال کہے گا آگے بڑھو! تم نے مجھ سےمدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (إحیاء علوم الدین،کتاب ذم البخل وذم حب المال،بیان ذم المال وکراھۃحبہ،ج۳،ص۳۱۳) ۲؎ (المعجم الأوسط للطبراني، الحدیث:۵۴۷۰،ج۵،ص۳۳۳) (المعجم الکبیر للطبراني، الحدیث:۱۶۴۱،ج۲،ص۱۵۳)