| ضیائے صدقات |
عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ الْأَکْوَعِرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ: کُنْتُ جَالِساً عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأُتِيَ بِجَنَازَۃٍ، ثُمَّ أُتِيَ بِأُخْرٰی، فَقَالَ: ''ھَلْ تَرَکَ مِنْ دَین''؟، قَالُوْا: لَا. قَالَ: ''فَھَلْ تَرَکَ شَیااً''؟ قَالُوْا: نَعَمْ ثَلَاثَۃَ دَنَانِیر، فَقَالَ: بِأَصَابِعِہِ: ''ثَلَاثُ کَیاتٍ''.۱؎
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں: میں بارگاہِ نبوی میں بہٹھا تھا کہ ایک جنازہ لایا گیا پھر دوسرا جنازہ لایا گیا تو سرکار والا تبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیع روزشمار، دو عالم کے مالک و مختار، حبیب پروردگار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی قرض چھوڑا ہے؟ عرض کی: نہیں، فرمایا: تو کیا کوئی اور چیز چھوڑ گیا؟ عرض کی: جی تین دینار تو آپ نے اپنی انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: یہ آگ کے تین داغ ہیں۔
حضرت یحییٰ بن معاذ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: دو مصیبتیں ایسی ہیں جن کیمدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
۱؎ (المسند للإمام أحمد بن حنبل،مسند سلمۃ بن الأکوع، الحدیث:۱۶۶۲۴،ج۵،ص۶۴۳)
(صحیح البخاري،کتاب الحوالات، باب إن أحال دین المیت علی رجل جاز، الحدیث:۲۲۸۹، ج۲،ص۶۴)
(مسند الرویاني، مسند سلمۃ بن الأکوع، الحدیث:۱۱۲۷،ج۲،ص۱۵۹)
(صحیح ابن حبان، الحدیث:۳۲۶۴،ج۸،ص۵۴)
(السنن الکبری للبیھقي،کتاب الضمان، باب وجوب الحق بالضمان، الحدیث:۱۱۳۹۶،ج۶، ص۱۲۰)
(شعب الإیمان، باب في قبض الید عن الأموال المحرمۃ، فصل في التشدید في الدین، الحدیث: ۵۵۳۸،ج۴،ص۳۹۹)
(موارد الظمآن، الحدیث:۲۴۸۲،ج۱،ص۶۱۵)