Brailvi Books

ضیائے صدقات
86 - 408
اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یقُوْلُ: ''مَا أُحِبُّ لَوْ أَنَّ لِيْ ھٰذَا الْجَبَلُ ذَھَباً أُنْفِقُہُ وَیتَقَبَّلُ مِنِّيْ أَذَرُ خَلْفِيْ مِنْہُ سِتَّ أَوَاقِيَّ'' أَنْشَدُکَ بِاللہِ یا عُثْمَانُ! أَسَمِعْتَہُ؟! ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَ: نَعَمْ.۱؎
میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: مجھے یہ پسند نہیں کہ میرے پاس اس پہاڑ برابر سونا ہو جسے میں خیرات کروں اور وہ قبول ہوجائے کہ اس میں سے چھ اوقیہ اپنے پیچھے چھوڑدوں۔ پھر آپ نے تین بار فرمایا:اے عثمان! تمہیں اللہ کی قسم!کیا تم نے حضور کو یہ کہتے سُنا؟ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:ہاں۔

    مفتی احمد یار خان نعیمی اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں: کندھوں تک دراز لاٹھی تھی جو اُن کے ساتھ رہتی تھی، لاٹھی ساتھ رکھنا سُنّت ہے اور اس کے بہت فوائد ہیں۔

    مزید فرماتے ہیں:یعنی عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی موجودگی میں کعب احباررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مسئلہ پوچھا کہ عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہبہت مال چھوڑ کر وفات پاگئے ہیں تمہارا کیا خیال ہے، آیا مال جمع کرنا اور بال بچّوں کے لئے چھوڑ جانا جائز ہے یا نہیں، مرقات میں ہے کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف نے دو لاکھ دینار چھوڑے تھے، خیال رہے کہ حضرت ابو ذر غفاری زاہد ترین صحابی تھے ان کا خیال تھا کہ: شعر

تج ڈال مال و دھن کو، کوڑی نہ رکھ کفن کو ز جس نے دیا ہے تن کو، دے گا وہی کفن کو
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎ (المسند للإمام أحمد بن حنبل، مسند عثمان بن عفان، الحدیث:۴۵۳،ج۱،ص۲۱۳)

(مشکاۃ المصابیح،کتاب الزکاۃ،باب الإنفاق وکراھیۃ الإمساک،الحدیث:۱۸۸۲،ج۱،ص۳۵۸)
Flag Counter