Brailvi Books

ضیائے صدقات
87 - 408
زہد و ترک دنیا کی احادیث پر سختی سے عامل تھے اس لئے ان کی موجودگی میں یہ سوال و جواب ہوئے تاکہ وہ حکم شرعی اور زہد میں نیز تقویٰ و فتویٰ میں فرق کرلیں۔

    مزید فرماتے ہیں: مال جمع رکھنا، بعد وفات چھوڑ جانا حلال ہے جبکہ اس سے زکوٰۃ، فطرہ، قربانی، حقوق العباد اداکئے جاتے رہے ہوں، یہ کنز میں داخل نہیں جس کی قرآن کریم میں بُرائی آئی ہے۔

    حکیم الامت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ، حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لاٹھی مارنے کی وضاحت میں فرماتے ہیں:یہ مارنا بحالت جذب تھا، آپ اپنے نفس پر قابو نہ پاسکے، چونکہ ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بزرگ ترین صحابی تھے، تمام صحابہ آپ کا بہت احترام کرتے ان کی ناراضی یا مار پر ناراض نہ ہوتے تھے، جیسے آج بھی سعادت مند جوان محلہ کے بزرگوں کی سختی پر ناراض نہیں ہوتے اس لئے خلیفۃ المؤمنین نے ان سے قصاص کے لئے نہ کہا نہ حضرت کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کچھ بُرا منایا۔ ہوسکتا ہے کہ آپ کی یہ مار تادیب و سرزنش کے لئے ہو کہ تم تو کہہ رہے ہو مال جمع کرنے میں کوئی حرج نہیں حالانکہ امیر سخی بھی مسکینوں سے پانچ سو برس بعد جنّت میں جائیں گے، حساب میں دیر لگے گی۔ یہاں مرقات میں ہے کہ بعد میں حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مدینہ منورہ سے مقام ربزہ میں بھیج دیا تھا آپ تا وفات وہاں ہی رہے کیونکہ آپ کی طبیعت بہت جلالی تھی۔

    خلاصہ جواب یہ ہے: اے کعب !رضی اللہ تعالیٰ عنہ تم تو کہتے ہو مال جمع کرنے میں حرج نہیں جبکہ اُس سے فرائض ادا کردئیے جائیں، مگر میں نے اپنے محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سُنا، مال سارے کا سارا خیرات کردینا کچھ باقی نہ رکھنا سنت ہے