Brailvi Books

ضیائے صدقات
85 - 408
مِنْہُ شَيْءٌ إِلَّا شَیئًا أُعِدُّہُ لِدَین''. رواہ البزار.۱؎
میں تیسری صبح تک اس سے سوائے اپنے قرض کی ادائیگی کے کچھ بچا رکھوں۔

    مروی ہے کہ ایک شخص نے ابو عبدِ رب سے کہا: اے میرے بھائی! ایسا نہ ہو کہ تم دنیا سے برائی کے ساتھ جاؤ اور مال اپنی اولاد کے لئے چھوڑ جاؤ یہ سن کر ابو عبدِ رب نے اپنے مال سے ایک لاکھ درہم خیرات کردئیے۔۲؎

    ایک دوسری حدیث شریف:
عَنْ أَبِيْ ذَرٍّ، أَنَّہُ اسْتَأْذَنَ عَلٰی عُثْمَانَ، فَأَذِنَ لَہُ وَبِیدہِ عَصَاہُ، فَقَالَ عُثْمَانُ: یا کَعْبُ! إِنَّ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ تُوُفِّيَ وَتَرَکَ مَالاً، فَمَا تَرٰی فِیہ؟ فَقَالَ: إِنْ کَانَیصِلُ فِیہ حَقَّ اللہِ، فَلَا بَأْسَ عَلَیہ. فَرَفَعَ أَبُوْ ذَرٍّ عَصَاہُ فَضَرَبَ کَعْباً وَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی
حضرت ابو ذررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضری کی اجازت مانگی، آپ نے انہیں اجازت دے دی ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ میں ان کی لاٹھی تھی، حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اے کعب! عبد الرحمن کی وفات ہوئی اُنہوں نے بہت مال چھوڑا اس بارے میں تمہاری رائے کیا ہے؟ فرمایا کہ اگر اُس میں اللہ کا حق ادا کرتے ہوں تو کوئی حرج نہیں، تب ابو ذررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لاٹھی اُٹھا کرکعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ماری اور فرمایا:
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎ (مسند البزار، عبید اللہ عن عباس عن أبي ذر، الحدیث:۳۸۹۹،ج۹، ص۳۴۲)

(الترغیب والترھیب،کتاب الصدقات، الترغیب في الإنفاق في وجوہ الخیر کرماً...إلخ، الحدیث:۲۲،ج۲،ص۳۰)

۲؎ (إحیاء علوم الدین،کتاب ذم البخل وذم حب المال،بیان ذم المال وکراھۃحبہ،ج۳،ص۳۱۳)
Flag Counter