| ضیائے صدقات |
يا رَسُوْلَ اللہِ أَرَأَيت إِنْ فَعَلَ ھٰذَا يدخِلْہُ الْجَنَّۃَ؟ قَالَ: ''مَا مِنْ عَبْدٍ مُؤْمِنٍ يصِيب خَصْلَۃً مِّنْ ھٰذِہِ الْخِصَالِ إِلَّا أَخَذَتْ بِيدہِ حَتّٰی تُدْخِلَہُ الْجَنَّۃَ''.۱؎
یارسول اللہ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم آپ کیا فرماتے ہیں کہ اگروہ یہ اعمال کرے تویہ اسے جنت میں داخل کردیں گے؟ فرمایا جو بھی مومن بندہ ان خصائل میں سے کسی خصلت کو اختیار کرلے گا وہ خصلت اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے جنت میں لے جائے گی۔
اپنے دینی بھائی کو کھلانا، ايک درہم صدقہ کرنے سے زيادہ محبوب ہے اور اپنے دینی بھائی پرايک درہم صدقہ کرنا، غير پر سو درہم صدقہ کرنے سے زيادہ محبوب ہے، چنانچہ حديث شريف ميں ہے:عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللہُ عَنْھُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ''لَأَنْ أُطْعِمَ أَخاً لِيْ فِي اللہِ لُقْمَۃً أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَتَصَدَّقَ عَلٰی مِسْکِين بِدِرْھَمٍ، وَلَأَنْ أُعْطِيَ أَخاً لِيْ فِي اللہِ دِرْھَماً أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَتَصَدَّقَ عَلٰی مِسْکِين بِمِائَۃِ دِرْھَمٍ''.۲؎
حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے آپ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال،، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سے روايت بيان کرتے ہيں کہ آپ نے فرمايا، مجھے کسی اجنبی مسکین پر ايک درہم خرچ کرنے سے زيادہ محبوب ہے کہ ميں اپنے دینی بھائی کو ايک لقمہ کھلاؤں اور کسی اجنبی مسکين کو ايک سو درہم صدقہ کرنے سے زيادہ پسند ہے کہ اپنے دینی بھائی کو ايک درہم دوں۔
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (الترغيب والترھيب،کتاب الصدقات، الترغيب في الصدقۃ والحث عليھا... إلخ، الحديث:۳۴۔۳۵،ج۲،ص۱۳) ۲؎ (تاريخ جرجان، الحديث:۶۱۸، ج۱، ص۳۵۹)