Brailvi Books

ضیائے صدقات
78 - 408
    اسی طرح کا مفہوم ايک اور حديث ميں ہے:
عَنْ عَلِيٍّ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ: لَأَنْ أَجْمَعَ نَفَراً مِنْ إِخْوَانِيْ عَلٰی صَاعٍ، أَوْ صَاعَين مِنْ طَعَامٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَدْخُلَ سُوْقَکُمْ فَأَشْتَرِيَ رَقَبَۃً فَأُعْتِقَھَا.۱؎
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہيں، مجھے تمہارے بازار ميں آکے غلام خريد کر آزاد کردينے سے زيادہ عزيز ہے کہ ميں اپنے بھائيوں کو ايک  يا دو صاع کھانا کھِلادوں۔

    تين قسم کے لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا سایہ رحمت ہے:
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ رَضِيَ اللہُ عَنْھُمَا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ''ثَلَاثٌ مَنْ کُنَّ فِيہ نَشَرَ اللہُ عَلَيہ کَنَفَہُ، وَأَدْخَلَہُ جَنَّتَہُ: رِفْقٌ بِالضَّعِيف، وَشَفَقَۃٌ عَلَی الْوَالِدَين، وَإِحْسَانٌ إِلَی الْمَمْلُوْکِ.وَثَلَاثٌ مَنْ کُنَّ
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے فرماتے ہيں، خاتم الْمُرْسَلین، رَحْمَۃ للْعالمین، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمايا، تین صفات ایسی ہیں کہ جس شخص میں ہوں گی اللہ عزوجل اس پر اپنی رحمت کا سایہ کردے گااور اسے اپنی جنت میں داخل فرمائے گا۔(وہ صفات یہ ہیں) کمزور کے ساتھ نرمی برتنا، والدین پر شفقت کرنا اور غلاموں کے ساتھ احسان کرنا۔اور تین صفات وہ ہیں کہ جس شخص
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (تھذيب الکمال، الحديث: ۵۶۵۴، ج۲۶، ص۵۵۲)
Flag Counter