Brailvi Books

ضیائے صدقات
67 - 408
سادات کرام کا احترام اور مسلمانوں کے ساتھ مودت واحسان اور اُن کی مدد اور ان کی طرف سے مدافعت اور اُن کے ساتھ شفقت اور سلام و دُعا اور مسلمان مریضوں کی عيادت اور اپنے دوستوں خادموں ہمسايوں سفر کے ساتھيوں کے حقوق کی رعايت بھی اس ميں داخل ہے اور شریعت ميں اسکا لحاظ رکھنے کی بہت تاکيديں آئی ہيں بہ کثرت احاديث صحيحہ اس باب ميں وارد ہيں''۔۱؎

    اور فرمايا:
وَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰی حَقَّہٗ وَالْمِسْکِیۡنَ وَ ابْنَ السَّبِیۡلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِیۡرًا ﴿۲۶﴾
ترجمہ کنزالایمان: اور رشتہ داروں کو ان کا حق دے اور مسکين اور مسافر کو اور فضول نہ اُڑا۔ (بنيۤ إسرائیل:۱۷/۲۶)

    تفسیر خزائن العرفان میں ہے: حق دينے سے مرادہے، ''اُن کے ساتھ صلہ رحمی کر اور محبت اور ميل جول اور خبر گيری اور موقع پر مدد اور حسن معاشرت ۔ مسئلہ: اور اگر وہ محارم ميں سے ہوں اور محتاج ہوجائيں تو اُن کا خرچ اُٹھانا يہ بھی ان کا حق ہے اور صاحبِ استطاعت رشتہ دار پر لازم ہے بعض مفسّرين نے اس آيت کی تفسير ميں يہ بھی کہا ہے کہ رشتہ داروں سے سيد عالم صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم کے ساتھ قرابت رکھنے والے مراد ہيں اور اُنکا حق خُمُس دينا اور اُن کی تعظيم و توقير بجا لانا ہے''۔

    ''فضول نہ اُڑا يعنی ناجائز کام ميں خرچ نہ کر۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ، نے فرمايا کہ تبذير مال کا ناحق ميں خرچ کرنا ہے''۔۲؎
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎ (خزائن العرفان)

۲؎ (خزائن العرفان)
Flag Counter