| ضیائے صدقات |
الَّذِیۡنَ یَنۡقُضُوۡنَ عَہۡدَ اللہِ مِنۡۢ بَعْدِ مِیۡثَاقِہٖ ۪ وَیَقْطَعُوۡنَ مَاۤ اَمَرَ اللہُ بِہٖۤ اَنۡ یُّوۡصَلَ وَیُفْسِدُوۡنَ فِی الۡاَرْضِ ؕ اُولٰٓءِکَ ہُمُ الْخٰسِرُوۡنَ ﴿۲۷﴾
ترجمہ کنزالایمان:وہ جو اللہ کے عہد کو توڑ ديتے ہيں پکّا ہونے کے بعد اور کاٹتے ہيں اُس چيز کو جس کے جوڑنے کا خدا نے حکم ديا اور زمين ميں فساد پھیلاتے ہيں وہی نقصان ميں ہيں۔(البقرۃ:۲/۲۷)
صدر الافاضل ''اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں'' کے تحت فرماتے ہیں، ''رشتہ و قرابت کے تعلقات، مسلمانوں کی دوستی و محبت، تمام انبياء کا ماننا، کتابِ الٰہی کی تصدیق حق پر جمع ہونا، يہ وہ چيزيں ہيں جن کے ملانے کا حکم فرمايا گيا ان ميں قطع کرنا بعض کو بعض سے ناحق جُدا کرنا تفرقوں کی بِنا ڈالنا ممنوع فرمايا گيا''۔۱؎
اللہ تعالیٰ رشتہ داروں کا لحاظ رکھنے کا حکم فرماتا ہے:وَاتَّقُوا اللہَ الَّذِیۡ تَسَآءَلُوۡنَ بِہٖ وَالۡاَرْحَامَ ؕ الآیۃ
ترجمہ کنزالایمان: اور اللہ سے ڈرو جس کے نام پر مانگتے ہو اور رشتوں کا لحاظ رکھو۔ (النساء:۴/۱)
يعنی انہيں قطع نہ کرو۔ حديث شريف ميں ہے ''جو رزق ميں کشائش چاہے اس کو چاہے کہ صلہ رحمی کرے اور رشتہ داروں کے حقوق کی رعايت رکھے''۔۲؎مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (خزائن العرفان) ۲؎ (خزائن العرفان)