ہوتا اس لئے بندے کو چاہے کہ بارگاہِ الٰہی ميں اُن پر فضل و رحمت فرمانے کی دُعا کرے اور عرض کرے کہ يارب ميری خدمتيں اُن کے احسان کی جزاء نہيں ہوسکتيں تو اُن پر کرم کر کہ اُن کے احسان کا بدلہ ہو مسئلہ: اس آيت سے ثابت ہوا کہ مسلمان کے لئے رحمت و مغفرت کی دعا جائز اور اُسے فائدہ پہنچانے والی ہے مُردوں کو ايصالِ ثواب ميں بھی اُن کے لئے دُعائے رحمت ہوتی ہے لہٰذا اسکے لئے يہ آيت اصل ہے مسئلہ: والدين کافر ہوں تو اُن کے لئے ہدايت و ايمان کی دُعا کرے کہ یہی اُن کے حق ميں رحمت ہے۔ حديث شريف ميں ہے والدين کی رضا ميں اللہ تعالیٰ کی رضا اور اُن کی ناراضی اللہ تعالیٰ کی ناراضی ہے دوسری حديث ميں ہے والدين کا فرمانبردار جہنمی نہ ہوگا اور اُن کا نافرمان کچھ بھی عمل کرے گرفتارِ عذاب ہوگا ايک اور حديث ميں ہے حضور انور صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم نے فرمايا والدين کی نافرمانی سے بچو اس لئے کہ جنّت کی خوشبو ہزار برس کی راہ تک آتی ہے اور نافرمان وہ خوشبو نہ پائے گا نہ قاطع رحم نہ بوڑھا زناکار نہ تکبّر سے اپنی ازار ٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا''۔۱؎
خليفہ ہارون الرشيد نے ايک بار ايک لڑکے اور اس کے والد کو قيد خانہ ميں ڈالا، والد صاحب نيم گرم پانی سے ہی وضو کے عادی تھے مگر داروغہ (جي0لر) نے قيدخانے ميں آگ جلانے سے منع کرديا، تو لڑکے نے رات بھر چراغ کے ذريعہ پانی (کا برتن) گرم کيا جب صبح ہوئی تو باپ نے وضو کا پانی کچھ گرم پايا تو بہٹے سے پوچھا يہ کہاں سے آيا؟ کہنے لگا ميں نے اسے چراغ کی آگ سے گرم کيا ہے، تو يہ بات داروغہ