Brailvi Books

ضیائے صدقات
64 - 408
وَقُلۡ لَّہُمَا قَوْلًاکَرِیۡمًا ﴿۲۳﴾وَ اخْفِضْ لَہُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَۃِ وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْہُمَا کَمَا رَبَّیٰنِیۡ صَغِیۡرًا ﴿ؕ۲۴﴾
نہ جھڑکنااور ان سے تعظيم کی بات کہنا اور ان کے لئے عاجزی کا بازو بچھا نرم دلی سے اور عرض کر کہ اے ميرے رب تو ان دونوں پر رحم کر جيسا کہ ان دونوں نے مجھے چھٹپن ميں پالا۔ (بنيۤ إسرائيل:۱۷/۳۔۲۴)

    مذکورہ آیت کی تفسیر میں فرمان، ''ہوں نہ کہنا'' کے تحت صدر الافاضل مولانا محمد نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں،

    ''يعنی ايسا کوئی کلمہ زبان سے نہ نکالنا جس سے يہ سمجھا جائے کہ اُنکی طبیعت پر کچھ گرانی ہے''۔

    اور فرمان ''تعظیم کی بات کہنا'' کے تحت فرمایا، ''اور حسنِ اَدب کے ساتھ اُن سے خطاب کرنا مسئلہ: ماں باپ کو ان کا نام لے کر نہ پکارے يہ خلاف اَدب ہے اور اس ميں انکی دل آزاری ہے ليکن وہ سامنے نہ ہوں تو اُنکا ذکر نام لےکر کرنا جائز ہے مسئلہ: ماں باپ سے اس طرح کلام کرے جيسے غلام و خادم آقا سے کرتا ہے''۔

    فرمان ''عاجزی کا بازو بچھا'' کے تحت صدر الافاضل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں، ''یعنی بہ نرمی و تواضع پیش آ اور اُنکے تھکے وقت (يعنی بڑھاپے اور بيماری) ميں شفقت و محبت کا برتاؤ کر کہ انہوں نے تيری مجبوری کے وقت تجھے محبت سے پرورش کيا تھا اور جو چيز انہيں درکار ہو وہ اُن پر خرچ کرنے ميں دریغ نہ کر''۔

    صدر الافاضل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مزید فرماتے ہیں، ''مدعا يہ ہے کہ دنيا ميں بہتر سلوک اور خدمت ميں کتنا بھی مبالغہ کيا جائے ليکن والدين کے احسان کا حق ادانہيں
Flag Counter