ہلاک کرتے تھے انہيں بتايا گيا کہ روزی دينے والا تمہارا ان کا سب کا اللہ ہے پھر تم کيوں قتل جيسے شديد جُرم کا ارتکاب کرتے ہو''۔۱؎
حضرت با يزيد بسطامی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہيں کہ سخت سردی کی ايک رات میں ميری والدہ نے مجھ سے پانی مانگا، میں آبخورہ (گلاس) بھر کر لے آیامگر ماں کو نیند آگئی تھی، میں نے جگانا مناسب نہ سمجھا، پانی کا آبخورہ ليے اس انتظار میں ماں کے قریب کھڑا رہا کہ بیدار ہوں تو پانی پیش کروں۔ کھڑے کھڑے کافی دیر ہو چکی تھی اور آبخورے سے کچھ پانی بہ کر گر گیا تھااور سخت سردی کی وجہ سے میری انگلی پر برف بن کر جم گیا تھا بہرحال جب والدہ محترمہ بیدار ہوئیں تو میں نے آبخورہ پیش کیا تو چونکہ انگلی پر برف جم جانے کی وجہ سے وہ چپک گیا تھا لہٰذا انگلی کی کھال ادھڑ گئی اور خون بہنے لگا، ماں نے دیکھ کر پوچھا یہ کیا ؟ میں نے سارا حال بیان کیا تو انہوں نے بارگاہ خداوندی میں دعا کے ليے ہاتھ اٹھا ديے اور عرض کیا، اے اللہ! عزوجل میں اس سے راضی ہوں تو بھی اس سے راضی رہنا۔۲؎
قرآن مجيد ميں ہے: