Brailvi Books

ضیائے صدقات
63 - 408
ہلاک کرتے تھے انہيں بتايا گيا کہ روزی دينے والا تمہارا ان کا سب کا اللہ ہے پھر تم کيوں قتل جيسے شديد جُرم کا ارتکاب کرتے ہو''۔۱؎

    حضرت با يزيد بسطامی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہيں کہ سخت سردی کی ايک رات میں ميری والدہ نے مجھ سے پانی مانگا، میں آبخورہ (گلاس) بھر کر لے آیامگر ماں کو نیند آگئی تھی، میں نے جگانا مناسب نہ سمجھا، پانی کا آبخورہ ليے اس انتظار میں ماں کے قریب کھڑا رہا کہ بیدار ہوں تو پانی پیش کروں۔ کھڑے کھڑے کافی دیر ہو چکی تھی اور آبخورے سے کچھ پانی بہ کر گر گیا تھااور سخت سردی کی وجہ سے میری انگلی پر برف بن کر جم گیا تھا بہرحال جب والدہ محترمہ بیدار ہوئیں تو میں نے آبخورہ پیش کیا تو چونکہ انگلی پر برف جم جانے کی وجہ سے وہ چپک گیا تھا لہٰذا انگلی کی کھال ادھڑ گئی اور خون بہنے لگا، ماں نے دیکھ کر پوچھا یہ کیا ؟ میں نے سارا حال بیان کیا تو انہوں نے بارگاہ خداوندی میں دعا کے ليے ہاتھ اٹھا ديے اور عرض کیا، اے اللہ! عزوجل میں اس سے راضی ہوں تو بھی اس سے راضی رہنا۔۲؎

    قرآن مجيد ميں ہے:
وَقَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعْبُدُوۡۤا اِلَّاۤ  اِیَّاہُ وَ بِالْوَالِدَیۡنِ اِحْسَانًا ؕ اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنۡدَکَ الْکِبَرَ اَحَدُہُمَاۤ  اَوْ کِلٰہُمَا فَلَا تَقُلۡ لَّہُمَاۤ  اُفٍّ وَّلَا وَّلَا تَنْہَرْہُمَا وَ
ترجمہ کنزالايمان: اور تمہارے رب نے حکم فرمايا کہ اس کے سوا کسی کو نہ پوجو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو اگر تيرے سامنے ان ميں ايک يا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائيں تو ان سے ہوں نہ کہنا اور انہيں
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎     (خزائن العرفان)

۲؎     (نزھۃ المجالس، باب بر الوالدين، ج۱، ص۲۶۱)
Flag Counter