Brailvi Books

ضیائے صدقات
62 - 408
    ايک اور جگہ قرآن کريم ميں ارشاد ہے:
یَسْـَٔلُوۡنَکَ مَاذَا یُنۡفِقُوۡنَ ۬ؕ قُلْ مَاۤ اَنۡفَقْتُمۡ مِّنْ خَیۡرٍ فَلِلْوَالِدَیۡنِ وَالۡاَقْرَبِیۡنَ وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیۡنِ وَابْنِ السَّبِیۡلِ ؕ  الآیۃ
ترجمہ کنزالايمان: تم سے پوچھتے ہيں کيا خرچ کريں تم فرماؤ جو کچھ مال نيکی ميں خرچ کرو تو وہ ماں باپ اور قريب کے رشتہ داروں اور يتيموں اور محتاجوں اور راہ گير کے لئے ہے۔(البقرۃ:۲/۲۱۵)

    اور فرمايا:
قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ  رَبُّکُمْ عَلَیۡکُمْ  اَلَّا تُشْرِکُوۡا بِہٖ شَیۡئًا وَّ بِالْوَالِدَیۡنِ اِحْسَانًا ۚ وَ لَا تَقْتُلُوۡۤا اَوْلَادَکُمۡ مِّنْ  اِمْلَاقٍ ؕ نَحْنُ نَرْزُقُکُمْ وَ اِیَّاہُمْ ۚالآیۃ
ترجمہ کنزالايمان: تم فرماؤ آؤ ميں تمہيں پڑھ سناؤں جو تم پر تمہارے رب نے حرام کيا يہ کہ اس کا کوئی شريک نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی اور اپنی اولاد قتل نہ کرو مفلسی کے باعث ہم تمہيں اور انہيں سب کو رزق دينگے۔ (الأنعام:۶/۱۵۱)

    آیہ کریمہ میں ارشاد '' ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو '' کی تفسیر میں صدر الافاضل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں :''کيونکہ تم پر ان کے بہت حقوق ہيں انہوں نے تمہاری پرورش کی تمہارے ساتھ شفقت اور مہربانی کا سلوک کيا تمہاری ہر خطرے سے نگہبانی کی اُن کے حقوق کا لحاظ نہ کرنا اور اُنکے ساتھ حسن سلوک کا ترک کرنا حرام ہے''۔

    مزید فرماتے ہیں ''اس ميں اولاد کو زندہ درگور کرنے اور مار ڈالنے کی حرمت بيان فرمائی گئی جس کا اہل جاہليت ميں دستور تھا کہ وہ اکثر ناداری کے اندیشہ سے اولاد کو
Flag Counter