Brailvi Books

ضیائے صدقات
61 - 408
پھر ان کی قبر کے کنارے کھڑے ہو ئے اور ارشاد فرمايا:''اے گروہ مہاجرين و انصار! جواپنی بيوی کو اپنی ماں پر ترجیح دے اس پر اللہ عزوجل، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، اللہ عزوجل اس کے نہ نفل قبول فرمائے گا نہ ہی فرض مگر يہ کہ وہ اللہ عزوجل کی بارگاہ میں توبہ کرے اور اپنی ماں سے حسن سلوک کرے اور اس کی رضا چاہے کیونکہ اللہ عزوجل کی رضا ماں کی رضا مندی ميں ہے اور اللہ عزوجل کی ناراضگی ماں کی ناراضگی ميں ہے۔'' ۱؎

    ایک صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمايا، والدين کے لئے دعا نہ کرنا اولاد کے گزر بسر کی کج حالی کا سبب بن جاتا ہے۔ ان سے پوچھا گيا، کيا يہ ممکن ہے کہ کوئی شخص اپنے والدين کی وفات کے بعد بھی اُنہيں راضی کرسکے؟ فرمايا کرسکتا ہے بلکہ تين چيزوں سے، ايک يہ کہ وہ خود نيک و پرہيزگار رہے کيونکہ والدين کی سب سے بڑی خواہش يہ ہوتی ہے کہ ان کا بہٹا نيک ہو، دوسری چيز يہ کہ وہ والدين کے عزيز واقارب کے ساتھ صلہ رحمی کرتا رہے، او رتيسری چيز يہ کہ اُن کے لئے استغفار و دعائيں کرتا رہے اور ان کے لئے صدقہ وغيرہ دےکر ايصالِ ثواب کرتا رہے۔۲؎

    حضرت علاء بن عبد الرحمن اپنے والدسے روايت نقل کرتے ہيں کہ حضرت ابو ہريرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کريم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمايا، جب آدمی مرجاتا ہے تو اس کے عمل کا سلسلہ منقطع ہو جاتاہے لیکن تین عمل منقطع نہیں ہوتے،صدقہ جاریہ،علم نافع اورنیک اولاد جو اس کے ليے دعا کرتی ہے۔ ۳؎
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎     (الزواجر عن اقتراف الکبائر، الکبیرۃ الثانیۃ بعد ثلاثمائۃ، ج۲، ص۱۱۲، دارالفکر بیروت)

۲؎    (تنبيہ الغافلين، باب حق الوالدین، ص۶۴،۶۵) 

۳؎    ( صحیح مسلم،کتاب الوصیۃ، باب ما یلحق الانسان...الخ، الحدیث۱۶۳۱، ص۸۸۶)
Flag Counter